اسلام آباد(نیوز ڈیسک)ترکی کے مقامی انتخابات میں صدر رجب طیب اردوگان کی جماعت بمشکل کامیابی حاصل کر سکی،دارالحکومت انقرہ اور استنبول میں حکمران جماعت کو شکست ،نتائج چیلنج کرنے کا اعلان کر دیا۔تفصیلات کے مطابق ترکی میں ہونے والے حالیہ مقامی انتخابات میں صدر رجب طیب اردوگان کی حکمران جماعت کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔16سال سے برسراقتدار صدر اردوگان کو دارالحکومت انقرہ اور استنبول میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔


انتخابات میں حکومتی اتحادی 51فیصد ووٹ لے کر سرخرو ہوئے ہیں تاہم بڑے شہروں سے ناکامی کی وجہ سے حکمران جماعت نے نتائج چیلنج کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔صدر اردوگان نے 31مارچ کو ہونے والے مقامی انتخابات کو ترکی کی بقا کیلئے اہم قرار دیا تھا۔ترکی کے مقامی انتخابات میں جماعتی بنیادوں پر ووٹ ڈالے جاتے ہیں۔حکمران جماعت (اے کے پی) کے مد مقابل ( سی ایچ پی) اور اس کے اتحادی تھے۔


ترکی میں ملک کا زیادہ تر میڈیاحکومت کے زیر کنٹرول ہے۔صدر اردوگان نے دو ماہ تک حکمران جماعت اور اپنے اتحادیوں کی انتخابی مہم چلائی اس کے باوجود حکمران جماعت دارالحکومت انقرہ اور استنبول سے شکست کھا گئی۔انقرہ میں حکمران جماعت کو 25سال بعد شکست ہوئی۔ترکی میں گرتی معیشت اور حالیہ دنوں میں مہنگائی اور بیروزگاری میں اضافے کے باعث مقامی انتخابات کو صدر طیب اردوگان کیخلاف ریفرنڈم سمجھا جا رہا ہے۔مبصرین کا خیال ہے کہ حالیہ نتائج صدر اردوگان کیلئے ایک ویک اپ کال ہیں کہ اگر معیشت میں سدھار نہ آیا اور اگر اپنے ایجنڈے کی تکمیل کیلئے وہ اپوزیشن کے ساتھ چلنے سے انکاری رہے تو پھر ترکی میں سیاسی ہوا کا رخ بدل بھی سکتا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here