اسلام آباد(نیوز ڈیسک)مسلم لیگ ن اور مسلم لیگ ق کے اہم رہنماوں کی خفیہ ملاقاتوں کا انکشاف،پنجاب میں اتحاد بننے کی صورت میں حمزہ شہباز وزیر اعلیٰ پنجاب بنیں گے جبکہ ق لیگ کو حکومت میں بڑا حصہ دیا جائے گا۔تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ ن کے اہم رہنما اور سابق سپیکر سردار ایاز صادق کی ق لیگ کے اہم رہنماوں سے ملاقاتیں ہوئیں ہیں اور ذرائع کے مطابق دونوں جماعتوں کے ممکنہ اتحاد پر بھی بات ہوئی ہے۔معاملات طے پانے کی صورت میں مسلم لیگ ق کو صوبے میں اہم کردار ملے گا جبکہ ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن نے حمزہ شہباز کو وزارت اعلیٰ دلوانے کے بدلے مسلم لیگ ق کو ڈبل پاور شیئرنگ کی پیش کش کی ہے۔

اس وقت پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ ق کے پاس سپیکر شپ اور دو وزارتیں ہیں جبکہ ن لیگ سے اتحاد کی صورت میں چوہدری پرویز الیٰ سپیکر ہی رہیں گے جبکہ وزارتوں کی تعداد چار ہو جائے گی۔مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت کا مسلم لیگ ق کے ساتھ چلنے کے اشارے کو سیاسی حلقے اہم تبدیلی سمجھ رہے ہیں ۔پنجاب اسمبلی کی اندرونی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو پاکستان تحریک انصاف کی حکومت بہت تھوڑے مارجن سے بر سر اقتدار ہے اور اگر مسلم لیگ ق حکومت سے اپنا اتحاد توڑتی ہے تو پی ٹی آئی کی حکومت ختم ہو سکتی ہے اور پھر آزاد اراکین کو بھی وفاداریاں تبدیل کرنے کا موقع مل جائے گا جبکہ ذرائع کا کہنا ہے کہ کئی آزاد آراکین عہدے اور مراعات نہ دئے جانے کی وجہ سے پی ٹی آئی کی حکومت سے ناراض ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن اور ق لیگ کے اتحاد کی صورت میں وزارت اعلیٰ کا تاج حمزہ شہباز کے سر سجے گا اور ایک بار پھر پنجاب کی وزارت اعلیٰ شریف خاندان کے پاس چلی جائے گی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here