کچھ دن قبل ایک قصائی کو کتے کا گوشت فروخت کرنے پر گرفتار کر لیا گیا ۔جب اسے جج کے سامنے پیش کیا گیا تو جج نے پوچھا :
کیا یہ سچ ہے کہ تمھارے پاس سے کتے کا گوشت پکڑا گیا ہے؟
ملزم : ۔ جی جناب یہ سچ ہے۔
جج:۔ تمھیں شرم نہیں آتی کہ تم انسانوں کو کتوں کا گوشت کھلاتے ہو؟
ملزم:۔ نہیں جناب میں انسانوں کو کتوں کا گوشت نہیں کھلاتا۔
جج:۔ کیا مطلب ابھی تو تم نے خود اقرار کیا ہے؟
ملزم:۔ہاں جناب میں نے اقرار کیا کہ میرے پاس سے کتے کا گوشت پکڑا گیا ہے ، لیکن وہ گوشت میں نے کسی انسان کو نہیں کھلایا۔۔
جج:۔ تو پھر وہ گوشت کس کو کھلایا؟
ملزم:۔ جج صاحب میں نے وہ کتوں کا گوشت کتوں کو ہی کھلایا ہے۔
جج:۔ کیا مطلب؟
ملزم:۔ جج صاحب مطلب یہ ہے کہ میرے پاس ہمارے ضلع کے ” ڈی سی او ۔ڈی ایس پی۔ایس ایچ او” اور ان جیسے بڑے لوگ آتے تھے اور مفت میں چھوٹا گوشت لے کر جاتے تھے اور گوشت نہ دینے پر جرمانہ کرنے کی دھمکیاں دیتے تھے ۔بکرے نے نو،دس کلو گوشت میں سے دو تین کلو گوشت وہ لے جاتے تھے تو مجھے فائدے کے بجائے نقصان ہو جاتا تھا۔اس لئے میں کتا ذبح کر کے رکھتا تھا ۔جب وہ لوگ مجھ سے مفت کا گوشت لینے آتے تو میں انہیں وہ گوشت دیتا تھا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here