لاہور (نیوز ڈیسک)نیسلے کمپنی کا دودھ پینے سے ایک ماہ کی بچی کے فوت ہونے کے 9ماہ بعد والد کی مدعیت میں کمپنی کیخلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔بچی کی قبر کشائی کے بعد حاصل ہونے والی رپورٹ میں موت کی وجہ دودھ قرار دی گئی ۔ایک رپورٹ کے مطابق چین میں 10لاکھ بچے نیسلے دودھ پینے سے ہسپتال منتقل ہوئے۔


تفصیلات کے مطابق لاہور کے رہائشی عثمان بھٹی کی ایک ماہ کی بیٹی وجیہہ 9ماہ قبل 5جولائی 2018ء نیسلے کمپنی کا دودھ پینے سے بیمار ہو گئی جسے قریبی ہسپتال لے جایا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکی اور اپنے خالق حقیقی سے جا ملی۔وجیہہ کے والد عثمان بھٹی کے مطابق بچی کی وفات کے چند دن بعد میرے رشتہ دار کے بچے کو نیسلے کے اسی ڈبے سے دودھ پلایا گیا تو وہ بھی بیمار ہو گیا تب مجھے شک ہوا کہ نیسلے کمپنی کے دودھ کی ہی وجہ سے میری بیٹی فوت ہوئی ہے ۔نیسلے کمپنی سے رابطہ کرنے پر انہوں

نے مجھے تسلی دی لیکن کوئی عملی کام نہیں کیا اسی وجہ سے میں نے قانونی راستہ اپنایا۔
عثمان بھٹی نے نجی ٹی وی چینل پر بات کرتے ہوئے مزید کہا کہ 14جولائی 2018ء کو عدالت میں قبر کشائی کی درخواست داخل کی جس میں دوکاندار جس سے دودھ خریدا تھا اور نیسلے کمپنی کو پارٹی بنایا۔31 جولائی 2018ء کو عدالت نے بچی کی قبر کشائی کا حکم جاری کر دیا لیکن نیسلے ایک طرف تو یہ کہتا رہا کہ یہ دودھ ہمارا نہیں ہے اور دوسری طرف قبر کشائی کا حکم چیلنج کر دیا۔بچی کی قبر کشائی کے بعد حاصل کئے گئے نمونوں کی رپورٹ کے مطابق بچی کی موت نیسلے کمپنی کے دودھ کی وجہ سے ہوئی ۔واقع کے 9ماہ بعد نیسلے کمپنی کیخلاف 7اپریل 2019ء کو فیکٹری ایریا تھانہ لاہور میں مقدمہ درج کر لیاگیا۔ذرائع کے مطابق چین میں 10لاکھ بچے نیسلے کمپنی کا دودھ پینے سے ہسپتال منتقل ہوئے تھے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here