اسلام آباد ( نیوز ڈیسک)ترکی میں سعودی کونصل خانے میں قتل ہونے والے سعودی صحافی جمال خا شقجی کی مبینہ تصاویر جاری کر دی گئیں۔قتل کی واردات 2اکتوبر کو ہوئی جبکہ قتل کے بعد نعش کے ٹکڑے کر کے سعودی کونسل خانے سے منتقل کیا گیا۔تفصیلات کے مطابق ترکی میں واقعہ سعودی کونصل خانے میں سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کی مبینہ تصویریں منظرعام پر آ گئیں ہیں جو جائے وقوعہ پر لی گئی تھیں ۔تصویروں میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کی نعش کے ٹکڑے کر کے مختلف ڈبوں میں ڈالا جا رہا ہے۔


ایک ویب سائٹ “ال سورہ” کی رپورٹ کے مطابق ترکی سے ہمیں کچھ تصاویر موصول ہوئی ہیں ۔ہماری تحقیق کے مطابق تصویریں بالکل ٹھیک ہیں اور جائے وقوعہ پر لیں گئیں تھیں۔یاد رہے کہ سعودی عرب نے 20اکتوبر کو اعتراف کیا تھا کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کو ترکی میں سعودی کونصل خانے میں جھگڑے کے دوران قتل کیا گیا۔واضح رہے کہ ترک صدر اردوان نے سعودی عرب سے مطالبہ کیا تھا کہ جمال خاشقجی کے قتل میں 18مشتبہ افراد ہیں جنہیں گرفتار کیا گیا ہے ان کے بارے میں واضح کیا جائے کہ انہیں قتل کا حکم کس نے دیا تھا۔


ادھر نیویارک ٹائمز کے مطابق سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کی مبینہ ریکارڈنگ کو کیس کا سب سے اہم ثبوت تصور کیا جا رہا ہے۔نیو یارک ٹائمز نے انکشاف کیا کے مبینہ ریکارڈنگ میں باس لفظ محمد بن سلمان کیلئے استعمال کیا گیا۔ایک امریکی اخبار کے مطابق مبینہ ریکارڈنگ میں ڈیتھ اسکواڈ میں ایک شخص مہر عبدالعزیز مطرب کو سنا گیا جس نے فون میں عربی میں گفتگو کی ۔اخبار کے مطابق مہر عبدالعزیر مطرب ایک سیکیورٹی اہلکار ہیں جو ولی عہد محمد بن سلمان کیساتھ اکثر سفر کرتے رہتے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here